Discussion about this post

User's avatar
Aamir's avatar

لوگ عورت کو فقط جسم سمجھ لیتے ہیں

روح بھی ہوتی ہے اس میں یہ کہاں سوچتے ہیں

روح کیا ہوتی ہے اس سے انہیں مطلب ہی نہیں

وہ تو بس تن کے تقاضوں کا کہا مانتے ہیں

روح مر جاتی ہے تو جسم ہے چلتی ہوئی لاش

اس حقیقت کو سمجھتے ہیں نہ پہچانتے ہیں

کتنی صدیوں سے یہ وحشت کا چلن جاری ہے

کتنی صدیوں سے ہے قائم یہ گناہوں کا رواج

لوگ عورت کی ہر اک چیخ کو نغمہ سمجھے

وہ قبیلوں کا زمانہ ہو کہ شہروں کا رواج

جبر سے نسل بڑھے ظلم سے تن میل کریں

یہ عمل ہم میں ہے بے علم پرندوں میں نہیں

ہم جو انسانوں کی تہذیب لیے پھرتے ہیں

ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں

(Sahir Ludihanvi)

Pankaj Wahane's avatar

The reflection on how women are seen before they are heard felt painfully true. Yet the way you tie that experience back to the legacy of the women in your family gives the piece such depth. It feels like a meditation on identity, history, and quiet resilience all at once.

No posts

Ready for more?